اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یمنی حکومت کے مخالف سیاستداں علی عبد الربہ القاضی نے آسٹریا کے اخبار اسٹینڈرڈ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گروہ جو یمن میں القاعدہ کے حامی ہیں وہ یمن کے صدر علی عبد اللہ صالح کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور یمنی صدر عبد اللہ صالح القاعدہ کو آلہ کار بنا کر اپنا اقتدار بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جب یمنی حکومت مشکلات سے دوچار ہوتی ہے تو القاعدہ سے آلہ کار کے طور پر استفادہ کرتی ہے اور مغربی ممالک کو ڈرانے کی کوشش کرتی ہے کہ اگر انھوں نے عبد اللہ صالح کی حمایت نہ کی تو القاعدہ دہشت گرد تنظیم یمن کو اپنا اڈہ بنائے گی، یمنی سیاستداں نے کہا کہ مغربی ممالک یمن اور لیبیا کے ڈکٹیٹروں کے بارے میں متضاد اور منافقانہ پالیسی پر عمل کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ یمنی آمر نے جولائی 2009 سے لے کر جنوری 2010 تک شمالی یمن کے نہتے عوام کے خلاف لڑتے ہوئے القاعدہ کو وسیع سطح پر استعمال کیا تھا جبکہ آل سعود، اردنی بادشاہت، مصر کی مبارک آمریت، خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کی خاندانی حکومتوں اور امریکہ کے منافق لبرلزم کی طرف سے بھی عبداللہ صالح کی حمایت ہورہی تھی اور آل سعود کی فوجوں نے باقاعدہ مداخلت کی تھی جبکہ امریکہ بھی شمالی یمن پر بمباریوں میں شریک تھا۔
پاکستان کے 300 فوجی بھی شمالی یمن کے خلاف جارحیت کے لئے سعودی عرب آئے ہوئے تھے۔
یمنی آمر کو ڈیڑھ مہینے سے زیادہ عرصے سے عوامی تحریکوں کا سامنا ہے وہ حال ہی میں اقتدار چھوڑنے کے لئے تیار ہوگئے تھے لیکن سعودی عرب راضی نہ ہوا اور اس نے اپنی فورسز جنوب یمن میں عوام کا قتل عام کرنے کے لئے اتار دیں اور پھر امریکہ نے بھی کہا کہ عبداللہ صالح کے بعد یمن میں ان کے لئے کوئی قابل اعتماد شخص نہیں ہے چنانچہ عبداللہ صالح وسیع مخالفتوں کے باوجود اپنے وعدے سے مکر گئے اور کہنے لگے "میں اقتدار چھوڑنے والا نہیں ہوں کیونکہ امریکہ کو میرا اقتدار سے الگ ہونا پسند نہیں ہے"۔
امریکہ اور سعودی عرب خاص طور پر سعودی عرب کے شمال اور جنوب (بحرین اور یمن) میں شروع ہونے والے انقلابات کی کامیابی سے ہرگز متفق نہیں ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ بحرین اور یمن میں انقلابات کی کامیابی کے بعد شرق و جنوب و نجد و حجاز کے عوام بھی طویل المدت اور مطلق العنان آل سعود حکمرانی کے خلاف زیادہ حوصلے اور امید کے ساتھ اٹھ سکتے ہیں۔
بشکریہ از مہر خبررساں ایجنسی